دنیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دیرینہ دوست، مشیر کی قید کی سزا معاف کردی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دیرینہ دوست اور مشیر راجر اسٹون کو حلف لینے کے بعد جھوٹ بولنے پر ملنے والی سزا معاف کردی۔

 

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دیرینہ دوست اور مشیر راجر اسٹون کو حلف لینے کے بعد جھوٹ بولنے پر ملنے والی سزا معاف کردی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق راجر اسٹون کو 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت سے متعلق تحقیقات میں حلف اٹھا کر جھوٹ بولنے پر سزا سنائی گئی تھی جس کو ٹرمپ نے ناانصافی سے تعبیر کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘روجر اسٹون پہلے ہی بدترین تکالیف کا سامنا کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ ایک کیس میں دیگر کئی افراد کی طرح ناانصافی کی گئی’۔بیان میں کہا گیا کہ ‘روجر اسٹون اب آزاد شہری ہیں’۔

ٹرمپ کی جانب سے سزا معاف کرنے کا فیصلہ دارالحکومت واشنگٹن کی اپیل کورٹ کی جانب سے روجر اسٹون کی سزا سے متعلق درخواست کو مسترد کرنے کے چند لمحوں بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی گئی اور اس قدم کو قانون کی بالادستی پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔

روجر اسٹون نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ‘صدر نے مجھے کہا تھا کہ انہوں نے میری سزا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور زور دیا کہ پوری شد ومد کے ساتھ اپیل کروں اور بری ہوجاؤں’۔

روجر اسٹون فلوریڈا میں فورٹ لاؤڈرڈیل میں اپنے دوستوں کے ساتھ سزا معاف ہونے پر خوشی منا رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق سزا معافی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روجر کا جرم ختم ہوا بلکہ انہیں جیل سے خلاصی ملے گی۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کیلف مک اینامی کا کہنا تھا کہ روجر اسٹون ‘روسی واویلا کا نشانہ بنے جو بائیں بازو اور اس کے اتحادیوں نے میڈیا میں مچا رکھا ہے’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button