ٹیکنالوجی

غیر اخلاقی مواد پر ٹک ٹاک کو بھی فائنل وارننگ جاری، بیگو ایپ بلاک کر دی گئی

اسلام آباد : پی ٹی اے نے عوام کی شکایات پر ایکشن لیتے ہوئے ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلیکیشن ٹک ٹاک کو وارننگ جاری کرتے ہوئے بیگو ایپ بلاک کردی۔

 

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلیکیشن ٹک ٹاک کے خلاف شہریوں کی جانب بے تحاشا شکایتیں درج کرائی جارہی تھی جس پر پاکستان ٹیلی کمیونکیشن نے ایکشن لیتے ہوئے ٹک ٹاک کو وارننگ جاری کردی۔

پی ٹی اے حکام نے ٹک ٹاک کو وارننگ اور بیگو ایپ کو بلاک کرنے کا باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک اور بیگو پر نازیبا اور غیراخلاقی مواد کی شکایتیں تھیں، نازیبا اور غیراخلاقی مواد سے معاشرے اور نوجوانوں پر منفی اثرات پڑرہے تھے۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن نے سوشل میڈیا کمپنیز کو نازیبا اخلاق سے متعلق نوٹسز جاری کیے گئے تھے، دونوں کمپنیز کو نوٹس میں نازیبا مواد ہٹانے کی یاد دہانی کرائی گئی تھی جس پر سوشل میڈیا کمپنیوں نے شکایات کے ازالے کےلیے اطمینان بخش اقدامات نہیں کیے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک، بیگو نے غیر اخلاقی، نازیبا مواد نہیں ہٹائے جس کے بعد ملکی قوانین کے تحت بیگو ایپ بلاک کردی گئی ہے جبکہ غیراخلاقی نازیبا مواد پر ٹک ٹاک کو حتمی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

ٹک ٹاک اور بیگو ایپ سے متعلق ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ ٹک ٹاک نوجوان لڑکیوں، کم عمربچیوں کو پرموٹ کررہا تھا، ٹک ٹاک پر نوجوان بچوں کو بےتحاشہ وائرل کیا جارہا تھا۔

سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ بچے ٹک ٹاک پر ویڈیوز وائرل کے اثرات سے نمٹنے سے قاصر تھے اور بچیوں کی ویڈیوز پر 40 سال سے زائد عمر کے مردوں کے کمنٹس نمایاں تھے۔

سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ٹک ٹاک پر نوجوان بچیوں کی ویڈیوز بھی لیک کی جارہی تھیں، حکومت پر معاشرے کے ہر شہری کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ شہری سوشل روابط کےلیے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام جیسی ایپ استعمال کریں۔

 حکومت ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرے، اسمبلی میں قرارداد  بھی جمع کوائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور رکن ایوان سیمابیہ طاہر نے بھی پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے قرار داد جمع کرائی تھی۔

سیمابیہ طاہر کی جانب سے جمع کرائی جانے والی قرار داد کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ٹک ٹاک ویڈیو کے ذریعے مذاہب کا مذاق بنایا جارہا ہے اور موبائل ایپلیکیشن کی وجہ سے بے حیائی بھی پھیل رہی ہے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button