پاکستان

ایتھوپیا بھی پاکستان کو آنکھیں دکھانے لگا، پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز پر پاکستان سے وضاحت طلب

اسلام آباد: ایتھوپین ایئرلائن نے بھی پاکستانی پائلٹس کے معاملے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی سے وضاحت طلب کرلی۔

 

اسلام آباد: ایتھوپین ایئرلائن نے بھی پاکستانی پائلٹس کے معاملے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی سے وضاحت طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق ایتھوپیا نے بھی پاکستانی ایئر لائنز سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایتھوپین ائیرلائن میں موجود 5 پاکستانی پائلٹس کی اسناد، لائسنسزکی وضاحت طلب کر لی ہے۔ پائلٹس میں میاں طاہرریحان، شہزاد عزیز، محمد جمیل، انعام اللہ جان، محمد سہیل شامل ہیں۔

ایتھوپین ایئر لائنز کی طرف سے لکھے خط میں لکھا گیا ہے کہ پاکستانی پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز نے دنیا بھر کی طرح ایتھوپیا میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے، پائلٹس کی اسناد اور لائسنس کے اصلی یا جعلی ہونے سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ لائسنز ہولڈر پائلٹس 30سال تک پی آئی اے میں بھی کام کرتے رہے ہیں، پائلٹس کو لائسنسز موجودہ معاملے سے کئی برس، قبل سی اے اے پاکستان نے جاری کئے۔

اس سے قبل گزشتہ روز پاکستانی پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے پر امریکا نے بھی پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

خیال رہے کہ جعلی یا مشکوک لائسنس کے الزام کے تحت حکومت نے پاکستان ائیرلائنز (پی آئی اے) کے 141 پائلٹس سمیت 262 پائلٹس کی لسٹ جاری کی تھی۔

مشکوک لائسنس والے پاکستانی پائلٹس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 30 جون کو یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کیلئے معطل کیا تھا۔

ای اے ایس اے کی جانب سے پابندی کے بعد برطانیہ نے بھی پی آئی اے کی پروازوں کی آمد پرپابندی عائد کردی تھی جب کہ گزشتہ دنوں ویت نام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی مشتبہ لائسنس کی اطلاعات کے بعد تمام پاکستانی پائلٹس گراؤنڈ کردیے تھے۔

اس کے علاوہ ملائیشیا نے بھی پاکستانی پائلٹوں کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا جب کہ متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایمریٹس ائیرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور فلائٹ آپریشن افسران کے مشکوک لائسنس کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستانی حکام کو خط لکھا ہے۔

حکومت کی جانب سے مشکوک پائلٹس کی فہرست میں خامیاں سامنے آئی ہیں جس کے بعد پائلٹس کی ایسوسی ایشن پالپا نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button