بلاگ

کمزور یاد داشت کی حامل قوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدنان خالد

بڑے سے بڑے واقعے یا حادثے پر طوفان برپا کر دینے والوں کا اتنی ہی تیزی سے ان واقعات و حادثات کو فراموش کر دینا انتہائی حیرت انگیز بھی ہے اور قابلِ فکر بھی

ہم پاکستانی بھی کمال ہیں پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک نا ہنجار بیٹے نے اپنی والدہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ویڈیو وائرل ہوئی اور ٹاپ ٹرینڈ بن گئی طرح طرح کے تبصرے اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ آج بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اب کتنے لوگوں کو پتہ ہو گا یا کتنوں نے جاننے کی کوشش کی ہو گی کہ اس واقعہ کا حالیہ سٹیٹس کیا ہے ، ہم جذباتی قوم ہیں کسی بھی واقعے پر فوری اور شدید ردِ عمل دینے والے لوگ لیکن ہماری یادداشت بھی اتنی ہی تیزی سے ایسے واقعات کو ماضی کا حصہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ سانحہءِ ساہیوال میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ہاتھوں بے گناہ میاں بیوی کا بچوں کے سامنے ہونے والا بہیمانہ قتل اور بچوں کے ذہنوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے ہر شخص متفکر نظر آتا تھا، کسی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کھڑے کھڑے واقعے میں ملوث اہلکاروں کو تختہءِ دار پر لٹکا دیتا چار دن میڈیا اور سوشل ہینڈلز نے بھی اس واقعے کو اپنی پرموشن کا ذریعہ بنانے کے لیے بھرپور استعمال کیا لیکن بالآخر وہی روایتی بے حسی غالب آئی اور ہم اپنے روز مرہ کے معمولات میں ایسے مشغول ہوئے کہ آج کسی کو یاد بھی نہیں ہو گا کہ ایسا واقعہ کبھی ماضی قریب میں رونما بھی ہوا تھا۔ اُن بچوں اور ان کے لواحقین پر کیا گزر رہی ہے یا ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا کسی کو اس بات سے لینا دینا نہیں ۔ہم سیاست دانوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں انتخابات میں ان کے دکھائے جانے والے سبز باغوں کے انتخابات کے بعد وجود کو تلاش کرنے کے بہانے ان پر طرح طرح سے سنگ باری کرتے ہیں لیکن خود بھول جاتے ہیں کہ وہ سیاست دان ،حکمران ،اور عہدیداران بھی تو ہمیں میں سے ہیں ۔ہم اتنے جذباتی ہیں کہ کسی واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے لگتا ہے قیامت برپا کر دیں گے حکومت کی بنیادیں ہلا دیں گے نظام کو تلپٹ کر دیں گے یا ظالم کی کھال تک ادھیڑ کر مظلوم کو ماورائے عدالت فوری انصاف دلوا دیں گے لیکن اتنے ہی بے حس بھی ہیں کہ کسی بھی واقعے کو اس کی نوعیت کے برعکس انتہائی آسانی سے فراموش کرنے میں کمال برق رفتاری دکھاتے ہیں ایسے ہزاروں واقعات گنوائے جا سکتے ہیں جن کا ردِ عمل بھی حیرت انگیز تھا اور ان کو ذہنوں سے جھٹکنا بھی اتنا ہی حیرت انگیز رہا بہر حال یہ صورتحال ہماری قومی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاس ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button