ادارتیکالم

کوئی اور چوائس نہیں —————– ماریہ میمن

موجودہ صورتحال کے تناظر میں معروف اینکر ماریہ میمن کا تجزیہ، فی الحال اسی تنخواہ پر گزارہ کرنے کے مصداق صبر کی تلقین

اتوار کے دن کو ہم ٹیلی وژن نیوز کی زبان میں ‘سلو نیوز ڈے’ کہتے ہیں یعنی وہ دن جب شاذ و نادر ہی کوئی اہم یا بڑی خبر آنے کی امید ہو۔ کافی مدت بعد پچھلا اتوار کچھ یوں گزرا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں نے ہی خبروں کو رونق بخشی، بجٹ اجلاس سے پہلے دونوں ہی اپنا آخری آخری سیاسی زور لگاتے دکھائی دیے۔
خان صاحب اپنے اتحادیوں اور ایم این ایز سے ملے تاکہ بجٹ پاس کروا لیں جبکہ اپوزیشن نے ساتھ مل بیٹھ کر ایک پھس پھسی سی رسمی نیوز کانفرنس کر کے بجٹ کو مسترد کرنے کا اعلان کر ڈالا۔
سب ہی جانتے ہیں کہ کوئی کتنا بھی زور لگائے فی الحال حکومت اور سیاست اب دوراہے پر نہیں، بند گلی میں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی اپنی طرف سے بہترین پرفارمنس توقعات اور ضرورت سے نہ صرف کم بلکہ ناکافی ہے۔
سیاست اور گورننس دونوں میں کمزوری عیاں ہے۔ سیاسی حلیف مایوس ہیں اور خیر خواہ مایوس تر۔ اس کمزور سیٹ اپ کو چلانے لیے روایتی طاقت کے انجیکشن ٹیکنوکریٹس کی صورت میں لگائے گئے۔ اب آدھ درجن آئینی مشیروں اور درجن بھر خصوصی مشیروں کی کھیپ بھی گورننس میں خاطر خواہ بہتری لانے میں بھی کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
آٹا، چینی اور تیل سے لے کر خالی خزانے تک کوئی خیر کی خبر نہیں۔ اس ماحول میں جائیں تو جائیں کہاں؟
وزیراعظم نے البتہ اس کا جواب دے دیا ہے اور وہ بھی صاف صاف کہ ان کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں۔ کورونا سے لے کر تیل کی قیمتوں تک وزیراعظم کے بیانات میں نقص نکالے جا سکتے ہیں مگر یہ بات انہوں نے سولہ آنے کی ہے۔
اگر بات چوائس کی ہو تو اس کی تین صورتیں ہیں۔ پارٹی میں تبدیلی، ہاؤس میں تبدیلی اور ملک میں تبدیلی۔
پہلی صورت میں پی ٹی آئی اپنا کپتان بدلے اور قرعہ امید لگائے جو شیروانی سلوائے رہنماؤں میں کسی کے نام نکلے۔ اس صورت کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں۔ آنے والا لیڈر عمران خان سے بہر صورت مقبولیت اور قبولیت میں کم تر ہی ہوگا۔
ہاؤس میں تبدیلی اپوزیشن اور فیصلہ سازوں کی بھی پسندیدہ آپشن ہوا کرتی ہے۔
قومی حکومت سے لے کر براہ راست اقتدار کی کرسی تک، شہباز شریف کا خواب ہے جس کو پیپلز پارٹی دل و جان سے سپورٹ کرے گی۔ مگر اپوزیشن کے پاس اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نہ قوت ارادی ہے، نہ منصوبہ اور نہ ہی کوئی تحریک چلانے کا جذبہ۔
اپوزیشن کمزور دل، ناتواں اور بے سمت سیاستدانوں کا ایسا گروہ ہے جو بیانات اور ملاقاتوں کی بنیاد پر زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اوپر سے سارا گروپ نیب ویٹرن ہے اور جو ابھی تک نہیں گئے ان کی اندر جانے کی خبر کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ ایسی ہومیوپیتھک اپوزیشن سے کسی تبدیلی کی توقع بے سود ہے۔
آخری آپشن ملک میں تبدیلی یعنی انتخابات کا ہونا ہے۔ کہنے کی حد تک یہ مولانا اور اکا دکا اپوزیشن کے ممبران کا مطالبہ ہے جس کو اکیلے میں شاید وہ خود بھی سنجیدہ نہیں سمجھتے۔ انتخابات کے پنڈورا باکس کے کھلنے کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔
تینوں ممکنہ آپشنز کے آؤٹ ہونے کی وجہ سے عمران خان تو ایک طرف عثمان بزدار تک کا کلہ مضبوط ہے۔ وہ عثمان بزدار جن کو خود اور تجزیہ نگاروں کو بھی دو سال نکالنے کی امید نہیں تھی۔
لمحہ فکریہ مگر یہ ہے کہ وفاق ہو یا پنجاب، یہ مضبوطی کسی انتظامی کارگردگی اور سیاسی دانش کا نتیجہ نہیں بلکہ صرف اس بات پر ٹکی ہوئی ہے کہ فی الحال کوئی متبادل ہے ہی نہیں۔

خان صاحب کا دعویٰ اب یہ نہیں کہ وہ بہترین چوائس ہیں بلکہ یہ ہے کہ باقی چوائسز میں مزید نقصان ہے اور یہ بات انہوں نے اتوار کو اپنی پارٹی کے اندر اور باہر ہر کسی کو واشگاف الفاظ میں باور کروا دی ہے۔ عمران خان اب گویا لانے والوں کی پسند سے مجبوری بن چکے ہیں۔
یہ مجبوری چاہے دل پر پتھر رکھ کر ہی برداشت کرنی پڑے مگر فی الحال اور کوئی رستہ ہے نہ حل۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button