تعلیم

کرونا کی وبا ابھی تک ٹلی نہیں یونیورسٹی انتظامیہ کا نئے سمیسٹر کی فیس کا مطالبہ

کرونا وائرس کی وجہ سے اگرچہ کالج، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بند ہیں . تاہم ان تعلیمی اداروں نے اپنے طلبا سے فیس بٹورنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے .

 

کئی ماہ سے بند تعلیمی ادارے مسلسل اپنے طلبا سے فیس اور دیگر چارجز وصول کرنے کے لیے نوٹس بھیج رہے ہیں. ایسے ہی ایک نوٹس بھارتی دارالحکومت دہلی کی ایک یونیورسٹی کی طرف سے جاری ہوا ہے جس میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے طلبا کو کہا ہے کہ جون میں ان کا پچھلا سمیسٹر ختم ہو رہا ہے اس لیے اگلے سمیسٹر کے لیے ہاسٹل ، بس اور دیگر واجبات جمع کروا دیں. ان نوٹسز سے بے روزگار والدین کے لیے مزید پریشانی پیدا ہو رہی ہے جو پہلے ہی کرونا کی وجہ سے پریشان ہیں اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہیں

واضح‌رہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں کے معاملے پر والدین، سکولز مالکان اور حکومت میں پاکستان میں لڑائیاں ہوتی رہیں ، حکومت نے فیس میں کمی کا کہا تو سکولز مالکان عدالت چلے گئے، بعد ازاں 20 فیصد فیس کم کی گئی ،دوسری جانب لاک ڈاؤن میں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے والدین فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں اور سکولز مالکان والدین کو فیس جمع کروانے کے لئے نوٹس پر نوٹس بھجوا رہے ہیں

اس کے مقابلے میں بھارت میں ایک سکول کا نوٹفکیشن سامنے آیا ہے جس میں لاک ڈاؤن کے دوران سکول کی جانب سے طلبا کے والدین کو لیٹر بھیجا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکول کی فیس لاک ڈاؤن کے دوران ختم کر دی گئی ہے تا ہم اکیڈمک فیس وہ بھی نصف یعنی 50 فیصد ادا کرنی ہو گی، لاک ڈاؤن کے دوران سکول مشکلات سے آگاہ ہے، اسلئے سکول فیس معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے

شہریوں نے بھارتی سکول کے نوٹفکشین پر کہا ہے کہ پاکستانی سکولز مالکان کو بھارتی سکول کے نوٹفکیشن کو دیکھ کر شرم آنی چاہئے،لاک ڈاؤں میں پاکستانی مزدور مشکلات کا شکار ہیں اور سکولز مالکان مشکل وقت میں بھی فیسوں کے نوٹس بھجوا رہے ہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button