صحت

پاکستان میں ایکسپرٹ کمیٹی ڈیکزامتھیون دوا کے استعمال پر غور کرے گی،ڈاکٹر ظفر مرزا

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا سے متاثرہ مریضوں پر ڈیکزامیتھون کے مثبت اثر کی رپورٹ آئی ہے

 

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے علاج میں اسے اہم پیشرفت قرار دیا ہے،ڈبلیو ایچ او نے کورونا مریضوں کیلئےڈیکزامتھیون کو خوش آئند کہا ہے، برطانیہ میں ڈیکزامتھیون سے نتائج مثبت آئے ہیں،ڈیکزامتھیون کورونا وائرس کے خلاف پہلا علاج ہے،اس دوا کے استعمال سے کورونا وائرس سے اموات میں کمی واقع ہوگی

ڈاکٹر ظفر مرزا کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ایکسپرٹ کمیٹی ڈیکزامتھیون دوا کے استعمال پر غور کرے گی

واضح رہے کہ کرونا وائرس کے علاج میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، ماہرین نے تشویشناک مریضوں کی جان بچانے والی دوا تلاش کر لی ہے۔ جس کی قیمت صرف پانچ پاؤنڈز (تقریباً ایک ہزار روپے) ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’’بی بی سی‘‘ کے مطابق برطانوی ماہرین نے تشویش ناک مریضوں کی جان بچانے والی دوا تلا ش کرلی ہے، “ڈیکسا میتھا سون” سستا اسٹیرائڈ ہے جو تشویشناک مریضوں کی صحتیابی میں مدد دیتا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیکسا میتھا سون کے استعمال سے وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کی شرح اموات 40 فیصد تک کمی ہوئی، دوا کے استعمال سے آکسیجن لگے مریضوں کی شرح اموات میں 20سے 25 فیصد کمی ہوتی ہے۔ تجربات کی سربراہی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کی، برطانیہ کے ہسپتالوں میں داخل 2 ہزار کورونا کے مریضوں پر دوا کے استعمال کا جائزہ لیاگیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ڈیکسا میتھا سون کا استعمال وبا کے آغاز میں کیا جاتا تو 5 ہزار زندگیاں بچانے میں مدد ملتی، دوا کورونا کے صرف تشویشناک مریضوں پر موثر ہے، معتدل مریضوں پر موثر نہیں ہے۔

یہ دوا دمہ اور آرتھرائٹس کے علاوہ متعدد امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہے، برطانیہ میں دوا کی قیمت صرف پانچ پاؤنڈز (تقریباً ایک ہزار روپے) ہے، دوا 1960 سے دنیا میں زیر استعمال ہے۔ پروفیسر لینڈرے کا کہنا ہے کہ اگر مناسب ہو تو ہسپتالوں میں مریضوں کو یہ دوا دی جا سکتی ہے، تاہم لوگوں کو خود سے یہ دوا گھروں میں نہیں کھانی چاہیے۔

ڈیکسامیتھازون ان لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں جن میں کورونا وائرس کی علامات شدید نہیں ہیں اور انھیں سانس کی تکلیف بھی نہیں۔ ریکوری ٹرائل نامی یہ آزمائش مارچ کے مہینے سے جاری ہے۔ اس آزمائش میں ملیریا کی دوا ہائڈروکسی کلوروکوین بھی شامل تھی جسے بعد میں ان خدشات کے پیشِ نطر بند کر دیا گیا کہ یہ دل کے عوارض اور ہلاکتوں میں اضافے کا باعث ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button