ادب

ندیم بھابھہ

غزل

موازنہ اگر اپنا کتاب سے کرے گی
ہماری حور محبت حجاب سے کرے گی
۔
ہمیں کہے گی کہ خوابوں میں چھوڑ دو رہنا
پھر اپنی بات کا آغاز خواب سے کرے گی
۔
کسی گھڑے کسی نلکے سے بے غرض ہوگی
وہ اپنی پیاس کی باتیں سراب سے کرے گی
۔
یہ لب وہی ہیں جنہیں پنکھڑی کہا گیا ہے
تو پہلا عشق بھی شاید گلاب سے کرے گی
۔
جدید دور کی لڑکی ہے گر محبت بھی
کبھی کرے گی تو پورے حساب سے کرے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button