ادب

نادر عریض

غزل

ماننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا تھا
میں جب ابھرا تھا چمکدار نہیں ہوتا تھا

میری نظریں نہیں ہوتی تھیں بدن پر اس کے
چھو بھی لیتا تو گنہگار نہیں ہوتا تھا

ایسے شیطانی جزیرے پہ رہے ہیں ہم لوگ
سو کے اٹھتے تھے تو گھر بار نہیں ہوتا تھا

میں تو دو روز میں ہی بھول گیا ہوں تجھ کو
یہ ترے زخم کا معیار نہیں ہوتا تھا

رنج ہوتا تھا اسے سامنے آ کر میرے
میں ان آنکھوں کا گرفتار نہیں ہوتا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button