ادب

مقصود وفا

 

زخم سہلا تے ہیں اور کارِ ہنر کرتے ہیں
ہم، جو بیتی ہوئی عمروں کو بسر کرتے ہیں

اِن زمینوں سے بہت دور کسی رستے میں
بیٹھ جاتے ہیں کہیں اور سفر کرتے ہیں

نیند اتنی بھی ضروری نہیں خوابوں کے لیے
آؤ سوئے ہوئے لوگوں کو خبر کرتے ہیں

رائگاں جائے گا یوں بولتے رہنا اُس کا
ہم اگر چپ بھی رہیں گے تو اثر کرتے ہیں

کامیابی کے علاوہ بھی کئی مقصد ہیں
ہم کوئی کوشش ِ ناکام اگر کرتے ہیں

اور کچھ کرنا نہیں آیا، سو مقصود وفا
اِک محبت ہے جسے بارِ دگر کرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button