ادب

قمر رضا شہزاد

موت وحیات کا کوئی آئین بھی تو ہو
میں لاش ہوں اگر مری تدفین بھی تو ہو

پتھر ہی مارئیے مجھے گالی ہی دیجئیے
میں عشق ہوں یہاں مری توہین بھی تو ہو

پھر ہی دکھائی دیں گے یہاں ہر طرف گلاب
پہلے یہ دشت خون سے رنگین بھی تو ہے

تجھ سے مکالمے پہ مجھے اعتراض کیا
اے نطق وقت کوئ ترا دین بھی تو ہو

بنتی نہیں ہے عشق کی تبلیغ پر سزا
الزام دوستا کوئی سنگین بھی تو ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button