کاروبار

عید الاضحیٰ کی آمد،جانوروں کی منڈیاں خطرے کی جھنڈیاں

عید الفطر پر ایس او پیز پر عمل کروانے میں ناکام رہنے والی انتظامیہ سختی سے عملدرآمد کروانے کے دلاسے دینے لگی عام آدمی خوف زدہ

عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے لیکن کورونا کی صورتحال کے باعث معاشی طور پر بدحال ہونے کے باوجود قربانی کا فریضہ ادا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہو گی ۔قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے روایتی طور پر قائم کی جانے والی مویشی منڈیاں اس بار شاید پہلے جیسی سج دھج سے عاری رہیں لیکن اس کے باوجود منڈیاں لگیں گی ضرور گرد و نواح سے جانوروں کی بڑے شہروں میں بیوپاریوں اور ان کی بیماریوں سمیت آمد کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں کورونا کے پھیلائو کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں حکام ان منڈیوں میں وبا سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کروانے کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں تاہم عید الفطر پر بازاروں میں احتیاطی تدابیر کی ہونے والی خلاف ورزیوں کے باعث بہت سے شہری خوف کا شکار ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سپر ہائی وے پر لگنے والی مویشی منڈی میں سٹالز کی بکنگ اور ملک کے دیگر شہروں سے قربانی کے جانور فروخت کرنے کے لیے لانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
لاہور کی ضلعی حکومت کے ترجمان عمران احمد نے بتایا کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں مویشی منڈیوں کے حوالے سے ضلعی حکومت ابھی ایس او پیز بنانے کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق محکہ صحت اور پولیس کے ساتھ مل کر عید کے لیے لگائی گئی عارضی مویشی منڈیوں کے ایس او پیز حتمی مراحل میں ہیں۔
ان کے مطابق لاہور میں ایک مستقل مویشی منڈی ہے جو کہ شاہ پور کانجراں کے علاقے میں ہے جبکہ ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر اٹھارہ عارضی منڈیاں لگائی جاتی ہیں۔ اوسط ہر ٹاؤن میں دو منڈیاں ہوتی ہیں جبکہ لاہور کے نو ٹاؤنز ہیں۔
ترجمان کے مطابق مویشی منڈیوں کے انتظامات ذی الحج کا چاند نظر آنے سے پہلے ہی کر لیے جاتے ہیں اور یہ ٹیکس فری منڈیاں دس دن جاری رہتی ہیں۔ اس بار سماجی فاصلے اور ماسک پہننے کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ جراثیم کش ادویات کے سپرے کے مسلسل استعمال جیسے اقدامات زیر غور ہیں، حتمی ایس او پیز بننے کے بعد عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button