دلچسپ خبریں

عورتوں کو گھورنا مردوں کا محبوب مشغلہ یا فطری مجبوری ؟

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مرد خواہ کسی بھی خطے علاقے عمر یا نسل سے تعلق رکھتا ہو، اس فطری خصلت کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے عورت کو بغور دیکھنا اور اس کا جائزہ لینا برائی ہی تصور نہیں کیا جاتا

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی مرد دماغ کو جانچنے یا پڑھنے کے لیے اس کی نظروں کے زاویے کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ عورت کو کیوں گھوررہا ہے۔
خواتین کو دیکھنے یا گھورنے کا یہ عمل اس سے قطعی مختلف ہوتا ہے جو گاڑی، کمپیوٹر یا کسی اور دلچسپی کی چیز کو دکھ کر ہوتا ہے۔
مرد کا دماغ کسی بھی عورت کے عکس کو مکمل صورت میں نہیں دیکھتا جبکہ اس کے برخلاف عورت کا دماغ کسی مرد کو مکمل طور پرجانچنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
اس حوالے سے مردوں اور خواتین کے گروپس پر تحقیق کی گئی جس میں انہیں جنس مخالف کی چند تصاویر دی گئیں بعدازاں دوسری تصاویر جو ان ہی تصاویر سے لی گئی تھیں مگر وہ مکمل نہیں تھیں بلکہ جسم کے کچھ اعضا یا حصے کی تھیں اور ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ ان کی شناحت کریں تو خواتین نے درست شناخت بتائی جبکہ مردوں کے گروپ نے تصویر کی جزئیات کی جانب توجہ نہیں دی اور ان کا جواب تھا کہ ایسی فوٹو پہلے بھی دیکھی ہے۔
مرد کا ذہن فطری طور پر ہمیشہ ایک ساتھی کا متلاشی ہوتا ہے خواہ وہ شادی شدہ ہی کیوں نہ ہو۔
اس کی یہی متنوعہ پسند طبیعت اسے لاشعوری طور پرگھورنے پر مائل رکھتی ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ان خواتین میں اپنی شریک حیات سے بڑھ کر خوبی کا متلاشی ہو بلکہ اسکی فطرت اسے اس جانب مبذول کرتی ہے اورنہ ہی اس کا یہ مطلب لیاجاسکتا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ راوبط بڑھانے یا نئے تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے بلکہ صرف دیکھنے کی حد تک ہی یہ معاملہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مرد کے دماغ کی پروگرامنگ میں جنس کا اثرات شامل ہیں جس کی وجہ سے بھی وہ خواتین کو غیر ارادی طور پر گھورتا یا بغوردیکھتا ہے۔
بعض اوقات مرد کسی عورت کو دیکھ کر اپنی سوچ کے دائرے میں کہیں کھو جاتا ہے. اس احساس کو لاشعوری کیفیت کا فائدہ کمرشل کمپنیاں اٹھاتی ہیں اور وہ اپنی مصنوعات کی ترویج کےلیے خواتین کے ذریعے اشتہاری مہم چلاتی ہیں اور مرد محض اشتہاری مہم کے زیر اثر وہ اشیا خریدنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
مردوں کی جانب سے عورتوں کو گھورنا یا بغور دیکھنا ایک طرح کا اشارہ بھی ہوتا ہے جس کا تعلق نسبتا شرمیلے مردوں سے ہے جو کسی بھی اجنبی عورت سے متعارف ہونے میں ہچکچاہٹ یا شرمیلے پن کا احساس رکھتے ہیں۔
شرمیلے مرد کسی بھی خاتون سے تعارف حاصل کرنے میں کافی دشواری محسوس کرتے ہیں اور وہ اپنے احساسات کا اظہارصرف نظر کے ذریعے ہی کرسکتے ہیں زبان سے اس کا اقرار ان کے لیے کافی دشوار ہوتا ہے۔
مرد کا عورت کو دیکھنا یا گھورنا اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ وہ اس کی توجہ حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ اس سے متاثر ہوا ہے. دیکھنے کے دوران مرد کو اس بات کا احساس نہیں رہتا کہ اس کی یہ نظریں خاتون کےلیے باعث شرمندگی یا اسے عدم اعتماد کا بھی احساس دلاتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button