ادب

عمیر نجمی

غزل

اُس کی طرف بس اس لئے تکتا نہیں تھا میں
سب دیکھتے تھے، آنکھ جھپکتا نہیں تھا میں

ایسی دبیز تہہ تھی بدن پر ملال کی
جلنے کے باوجود چمکتا نہیں تھا میں

اندر کی ٹوٹ پھوٹ میں ٹوٹے ہیں لفظ بھی
دورانِ گفتگو یوں اٹکتا نہیں تھا میں

کچھ کچھ شعورِ ہجر مجھے کم سِنی سے تھا
سو ٹہنیوں سے پھول اُچکتا نہیں تھا میں

اک عطر ساز لمس نے تکمیل کی مری
ورنہ کِھلا ہوا بھی مہکتا نہیں تھا میں

گِریہ ، شروع سے تھا پسندیدہ مشغلہ
گھنٹوں بھی کرتا رہتا تو تھکتا نہیں تھا میں

اچھا ہوا خود اُس کی نظر مجھ پہ پڑ گئی
اُس کو وہاں پکار تو سکتا نہیں تھا میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button