ادب

عاطف کمال رانا

غزل

یہ جو دھاگے ہیں ،،،، انہیں جوڑ کے رسی کرلو
ٹوٹے بالوں کی طرح ہوں مجھے گنتی کرلو

یہ جدائی تو ہے اک سلسلہ تلواروں کا
مجھ کو برباد کرو خود کو بھی زخمی کرلو

تیز بارش میں کہاں جائے گا اٹھ کر وہ شخص
وقت اچھا ہے میاں دوستی پکی کرلو

ورنہ میں کپڑے بہت تنگ سیا کرتا ہوں
مجھ سے جھگڑا ہے تو پھر دوسرا درزی کرلو

سوکھی شاخوں سے ہرے پھول نکل سکتے ہیں
تم پرندے ہو تو اس پیڑ سے شادی کرلو

اس طرح تم مری آواز بھی سن پاو گے
مشورہ یہ ہے کہ دیوار میں کھڑکی کرلو

عشق کے زہر بھرے پیڑ کا پھل میٹھا ہے
لوگ کہتے ہیں مگر پہلے تسلی کرلو

کیوں نہ اک باغ میں ملنے کا ارادہ باندھیں
کم سے کم ایک ملاقات تو سستی کرلو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button