حیرت انگیزدلچسپ خبریں

صوابی سے تھائی لینڈ کی پارلیمنٹ میں پہنچنے تک کی ثواب خان کی روداد

پہلے پختون کی تھائی رکنِ پارلیمنٹ بننے کی دلچسپ کہانی ، ثواب خان کو کن کن مراحل سے گزر کر اس مقام پر پہنچنا نصیب ہوا

دوسری جنگ عظیم اپنے زوروں پر تھی جب ثواب خان کے والد وہاب خان کو برطانوی فوج کی جانب سے اس وقت سیام (موجودہ تھائی لینڈ) بھیجا گیا، لیکن پھر پاکستان بھی بن گیا لیکن وہ تھائی لینڈ میں ہی رہ گئے۔ انہوں نے وہیں شادی کی اور ثواب خان کا جنم ہوا۔

ثواب خان کے بھتیجے بختیار خان نے بتایا: کاکا (پشتو میں چچا کو کہتے ہیں) کا تھائی لینڈ کی سیاست میں ہمیشہ فعال کردار رہا، حتیٰ کہ خود شاہی خاندان نے بھی ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بطور میئر صوبے پراچوپ خیری خان کی بہت خدمت کی اور 60 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد قومی نشست کے لیے انتخاب لڑا اور بھاری اکثریت سے جیتے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کچھ قانونی پیچیدگیوں کے باعث ان کے حلقے کا نتیجہ تاخیر کا شکار رہا تاہم الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد بالآخر انہوں نے 29 جنوری کو تھائی لینڈ کی پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر حلف لیا۔ اس طرح انہوں نے تاریخ میں پہلی بار پاکستانی نژاد پشتون تھائی پارلیمنٹرین کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

تھائی رکن پارلیمنٹ ثواب خان کہتے ہیں: ’یقینی طور پر یہ میرے لیے خوشی کی بات ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان اور میرے آبائی علاقے صوابی کے لیے بھی فخر کی بات ہے۔ میرے والد نے بے سروسامانی کی حالت میں اپنا وطن چھوڑا ، یہاں آکر آباد ہوئے اور محنت مزدوری کی۔ آج میں اس مقام تک پہنچا تو یہ تھائی لینڈ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔‘

ثواب خان نے اپنا رشتہ پاکستان سے کبھی نہیں توڑا۔ انہوں نے پاک تھائی دوستی فورم کی بنیاد رکھی۔ 2005 کے زلزلے اور بعد ازاں 2009 کے سیلاب میں بھی متاثرین کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

اس حوالے سے ان کے بھتیجے بختیار خان نے بتایا: ’وہ چاہتے ہیں کہ پاک تھائی تعلقات کو مزید مستحکم اور موثر بنایا جائے اور تھائی لینڈ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے لیے مزید راہیں ہموار ہوں۔‘

جنگ عظیم دوم کے دوران غیر منقسم ہندوستان کے مقامی سپاہی کافی تعداد میں تھائی لینڈ گئے اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ان میں سے اکثریت پشتونوں کی ہے اور ثواب خان اسی بنیاد کی دوسری نسل سے ہیں۔ رکن تھائی پارلیمنٹ ثواب خان کی کہانی اسی بنیاد کی ہمت اور محنت کی کامیابیوں کی داستان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button