ادب

شکیل جاذب

غزل

فریبِ لمس دکھوں کا ازالہ کیا کرتا
میں عشق زاد بدن کا حوالہ کیا کرتا

تری نگاہ نے مستی سے بے نیاز کیا
غریقِ موجۂ صہبا، پیالہ کیا کرتا

ترے خیال میں کیا دخل فکرِ دنیا کو
حریمِ حسن میں مکڑی کا جالا کیا کرتا

حیات و موت کی اس عام سی کہانی میں
سوائے عشق جہاں سے نرالا کیا کرتا

شفق کی لَو میں گندھی ملگجی دہکتی شام
میں ایسی شام کے بدلے اجالا کیا کرتا

عذابِ ہجر کی سختی کے سامنے جاذب
غمِ حیات کے نازوں کا پالا کیا کرتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button