ادب

شاہد ماکلی

فَضا کے شمسی پس منظر میں داخل کیا ہوئے ہم تم
اندھیرے کی فراوانی میں ضم ہوتے گئے ہم تم

مِٹے ہیں تاکہ دُنیا گم شُدہ آثار تک پہنچے
ہوئے ہیں منہدم دریافت ہونے کے لیے ہم تم

بدن کی خیمگی عبرت کے خطِّ استوا پر تھی
ہزاروں موسموں کی رُوح سے واقف ہوئے ہم تم

یونہی کرتے رہیں گے آبیاری پائمالی کی
کہ سبزے کی طرح اُگتے رہیں گے خاک سے ہم تم

مہکتی آنچ کے رُخ پر شبستانوں سے نکلے تھے
بھڑکتے صندلیں جنگل میں خاکستر ہوئے ہم تم

کبھی تم کو بھی یاد آتی تو ہوں گی وہ ابد گاہیں
جہاں ازلوں اکٹھے گھومتے پھرتے رہے ہم تم

کہیں جب ٹھوس حالت میں مرکّب ہو نہیں پائے
تو ذرّوں کی طرح آپس میں ٹکرانے لگے ہم تم

اب اِس کے بعد کی منزل خدا معلوم کیا ہو گی
ابد تک آ گئے ہیں حشر سے ہوتے ہوئے ہم تم

پہنچ ہی جائیں گے اک دوسرے کی کہکشاؤں تک
کبھی طے کر ہی لیں گے کائناتی فاصلے ہم تم

شعاعیں مرتکز ہو کر جلا ڈالیں گی تنکوں کو
توجہ کی تمازت سے دُھواں ہو جائیں گے ہم تم

دماغ اک اور دُنیا کے بدن میں کار فرما ہے
سبھی کے سامنے ہوتے ہوئے غائب رہے ہم تم

تصوّر میں بڑھایا ارتکاز آہستہ آہستہ
تب اپنے ذہن سے چیزوں پہ قابو پا سکے ہم تم

قدم دھنستے چلے جائیں گے مجبوری کی دلدل میں
علائق سے اگر اوپر نہیں اٹھ پائیں گے ہم تم

زَمامِ کار خود سونپی تھی مصنوعی ذہانت کو
گلہ پھر کیجیے کس سے جو بے مصرف ہوئے ہم تم

ہوائے شش جہت کیسے اثر انداز ہو پاتی
کشش کے تحت آزادانہ گرتی بُوند تھے ہم تم

ہم آہنگی ہے دو مربُوط ذرّوں کی طرح اپنی
جدا ہو کر بھی آپس میں جڑے رہ جائیں گے ہم تم

فضا میں نشر کرتے ہیں خبر خود انحصاری کی
خلا میں بھیجتے ہیں موسمی سیّارچے ہم تم

گلہ جب کر رہے تھے تنگنائے ظرف کا شاہد
کھڑے تھے ایک بحرِ بیکراں کے سامنے ہم تم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button