ادب

ریحان قریشی

نہ زمیں کے، نہ آسماں کیلئے
ہم نہیں ظاہری جہاں کیلئے

ہم نے وہ زائقے بھی چکھے ہیں
جو کہ تھے ہی نہیں زباں کیلئے

ٹوٹے پشتوں پہ آ کہ لگتی رہیں
جو ہوائںں تھیں بادباں کیلئے

اب یہاں صرف دھول اڑتی ہے
یہی رستہ تھا کارواں کیلئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button