کاروبار

رنگ گورا کرنے کی کریمیں بنانے والی کمپنیوں نے لفظ“گورا“ حذف کرنا شروع کر دیا

گوری رنگت کا پرچار کر کے دولت کے انبار لگانے والی کمپنیوں میں سوشل میڈیا کی تنقید کے بعد اخلاقیات جاگنے لگی۔ گورا کی بجائے لفظ “گَلو“ استعمال کیا جائے گا

سوشل میڈیا پر گوری رنگت اور اس کی افادیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وائٹننگ کریمیں بنانے والی کمپنیوں کو دفاعی پوزیشن لینا پڑ گئی ہے۔ رنگ گورا کرنے کا نام نہاد دعویٰ نا صرف جلدی بیماریوں میں اضافے کا سبب بنا ہے بلکہ اس سے کالے رنگ والوں کا استحصال بھی ہوا ہے۔ بہت سی لڑکیوں اور لڑکوں کے رشتے محض اس وجہ سے نہیں ہو پاتے کہ ان کی رنگت کالی ہے۔سوشل میڈیا پر شدید مزاحمت کے بعد مختلف کمپنیوں نےاپنی اشتہاری مہمات اور پروڈکٹ لٹریچر سے لفظ “گورا“حذف کرنے کے اعلان کر دیا ہے۔ اگرچہ آج بھی وہ اسی بنیاد پر اپنی پروڈکٹ بیچیں گے لیکن عوامی دبائو کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متبادل الفاظ کا استعمال کر کے جان چھڑوانے کی پلاننگ کی گئی ہے

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button