ادب

حسنین سحر

ڈھانپ کر آنکھیں جلتے سورج میں
جب یہ کہتی ہو گھور اندھیرا ہے
میں تمھاری ہی بات مانتا ہوں

سسکیوں سے صدا جب آتی ہے
میں تمہیں یاد تو نہیں کرتی
میں تمھاری ہی بات مانتا ہوں

آنسو آنکھوں میں رکھ کے کہتی ہو
میرے چہرے پہ مسکراہٹ ہے
میں تمھاری ہی بات مانتا ہوں

جب چھپاتی ہو خود کو مجھ سے کبھی
اور کہتی ہو ڈھونڈ لو مجھ کو
جا کے در در کی خاک چھانتا ہوں
میں تمھاری ہی بات مانتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button