اہم خبر

حریت کانفرنس کو اپنی ساری زندگی دینے والے سید علی گیلانی کے اچانک استعفے کی وجہ کیا بنی

کشمیریوں کے حقوق کے لیے پابندِ سلاسل رہنے والے سید علی گیلانی جیسی معتبر شخصیت کے حریت کانفرنس کے لیڈرز کے نام خط نے سب کو حیران کر دیا

جدوجہدِ آزادی کے عظیم مجاہد حریت کانفرنس کے بانی اور تا حیات چیئرمین سید علی گیلانی نے اچانک حریت کانفرنس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں ظلم و سِتم اور بد ترین تشدد کے باوجود بھی سید علی گیلانی کبھی کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے سے باز نہیں آئے ایسے میں ان کے اچانک اس فیصلے نے سب کو حیرت زدہ کر دیا ہے
کل جماعتی حریت کانفرنس کے اراکین کے نام اپنے تفصیلی مکتوب میں علیحدگی اختیار کرنے کی وجوہات کا مکمل نقشہ کھینچتے ہوئے سید علی گیلانی کہتے ہیں: ‘جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر (پاکستان زیر انتظام کشمیر) شاخ کی حیثیت محض ایک نمائندہ فورم کی ہے۔ وہ کوئی بھی انفرادی یا اجتماعی فیصلہ لینے کی مجاز نہیں ہے۔ پچھلے کافی عرصہ سے بالعموم اور گذشتہ دو سال سے بالخصوص اس فورم کے حوالے سے بہت ساری شکایات موصول ہورہی ہیں۔

‘اپنے خاندانوں سے اسمبلیوں اور وزارتوں تک رسائی حاصل کر کے وہاں کے حکومتی ڈھانچہ میں عملا شمولیت، اندرون خانہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی، آپسی سر پھٹول، مالی بے ضابطگیوں اور اس جیسے دوسرے بے شمار معاملات عوامی حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔

‘حال ہی میں تحقیقات کی بنیاد پر ملوث افراد میں سے چند ایک کی برطرفی عمل میں لائی گئی اور باقی حضرات کی تحقیقات بھی جاری تھی لیکن تحقیقات کے اس عمل کو وہاں مقیم آپ کے نمائندوں نے اپنی توہین سمجھ کر الگ سے اجلاس بلانے شروع کیے جس کے بعد وہاں کے تنظیمی ڈھانچے کو تا حکم ثانی تحلیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے’۔

انہوں نے مزید لکھا: ‘فورم میں شفافیت اور احتساب کے اس عمل سے بچنے کے لیے آپ کے نمائندوں نے کنوینئر سے عدم تعاون کا سلسلہ شروع کر کے ایک پروپیگنڈا مہم کا باضابطہ آغاز کیا جس میں میرے بیانات اور قوم کے نام پیغامات کو شکوک و شبہات کی بھول بھلیوں میں گم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔

‘حتیٰ کہ میرے آخری سفر کے حوالے سے میری وصیت پر تحقیقاتی کمیشن بٹھا کر اُن کے عزائم کھل کر سامنے آگئے یہی نہیں بلکہ انہوں نے تمام تر اخلاقی، آئینی اور تنظیمی ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر خود ساختہ شوریٰ منعقد کر کے اس غیر آئینی فیصلے کی تصدیق کی اور اس اجلاس کو میری ہدایات کی طرف منسوب کر کے آپ لوگ بھی اس گھناؤنی سازش اور کھلے جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ میں نے ایسی کوئی ہدایات جاری ہی نہیں کی تھیں۔

وہ اپنے مکتوب میں کہتے ہیں کہ سال گذشتہ مابعد 5 اگست جب میں نے جیلوں سے باہر قائدین کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کوئی بھی نہ مل سکا لیکن آج جب احتساب کی تلوار ان کے سروں پر لٹکنے لگی تو وہ نام نہاد شوریٰ اجلاس منعقد کرنے کے لیے جمع ہوگئے۔

وہ لکھتے ہیں: ‘گذشتہ برس جب قابض بھارت نے مقبوضہ ریاست کو اپنے وفاق میں ضم کیا اور ریاست کو دو حصوں میں منقسم کرنے کا خود ساختہ اعلان کیا تاکہ فلسطین کی خوں آشام داستان کو یہاں دہرایا جاسکے، چنانچہ اس قبیح سازش کو عملانے کے لیے پوری قوم کو یرغمال بنا کر تقریباً سبھی چھوٹے بڑے قائدین، کارکنوں، وکلا، طلبا کے ہمراہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بیرون ریاست جیلوں میں پہنچادیا گیا۔

‘لیکن جو قیادت جیلوں سے باہر تھی ان سے توقع تھی کہ وہ حکومتی قدغنوں اور سرکاری عذاب و عتاب کے باوجود اس ننگی جارحیت کے خلاف نبرد آزما ہو کر عوام کی حوصلہ افزائی کر کے اس محکوم قوم کی رہنمائی کی منصبی ذمہ داری سنبھالتے۔

‘میں نے قدغنوں اور زیر حراست ہونے کے باوجود آپ حضرات کو تلاش کیا مگر کوئی بھی کوشش بارآور ثابت نہ ہوئی۔ آج جب آپ کے سروں پر احتساب کی تلوار لٹکنے لگی، بے ضابطگیوں کا پردہ سرکنے لگا تو وبائی مارا ماری اور سرکار کی بندشوں کے باوجود آپ حضرات نام نہاد شوریٰ اجلاس منعقد کرنے کے لیے جمع ہوئے’۔

مکتوب میں گیلانی نے کہا ہے کہ اس فورم کی کارکردگی اور بے ضابطگیوں کو اکثر ‘تحریک کے وسیع تر مفاد’ کے لبادے میں نظر انداز کیا گیا لیکن آج آپ تمام حدود وقیود کو پامال کر کے نظم شکنی ہی نہیں بلکہ قیادت سے کھلی اور اعلاناً بغاوت کے مرتکب ہو ئے ہیں۔

‘موجودہ صورتحال کے پیش نظر، تمام حالات پر غور و فکر کے بعد میں کل جماعتی حریت کانفرنس جموں وکشمیر سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں’۔

گیلانی مکتوب میں مزید کہتے ہیں: ‘تاہم میں اس دیار فانی سے رحلت تک بھارتی استعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور اپنی قوم کی رہنمائی کا حق حسب استطاعت ادا کرتا رہوں گا’۔

سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ 1950 میں ان کے والدین نے پڑوسی ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور ہجرت کی۔

گیلانی نے اورینٹل کالج لاہور سے ادیب عالم اور کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ 1949 میں ان کا بحیثیت استاد تقرر ہوا اور مستعفی ہونے سے پہلے بارہ سال تک کشمیر کے مختلف اسکولوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔

1953 کو وہ جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔ وہ پہلی بار 28 اگست 1962 کو گرفتار ہوئے اور 13 مہینے کے بعد جیل سے رہا کیے گئے۔ مجموعی طور پر انہوں نے اپنی زندگی کا 14 سال سے زیادہ عرصہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں گزارا جبکہ گذشتہ زائد ایک دہائی سے اپنے گھر میں نظربند ہیں۔

گیلانی کشمیر میں پندرہ سال تک اسمبلی کے رکن رہے۔ وہ اسمبلی کے لیے تین بار 1972، 1977 اور 1987 میں حلقہ انتخاب سوپور سے جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے 30 اگست 1989 کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔

سید علی گیلانی نے جماعت اسلامی میں مختلف مناصب بشمول امیر ضلع، ایڈیٹر اذان، قائم جماعت اور قائم مقام امیر جماعت کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔
بزرگ رہنما گیلانی مختلف جسمانی عوارض میں مبتلا ہیں۔ ان کے دل کے ساتھ پیس میکر لگا ہوا ہے۔ ان کا گال بلیڈر اور ایک گردہ نکالا جاچکا ہے جبکہ دوسرے گردے کا بھی تیسرا حصہ آپریشن کر کے نکالا جاچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button