دنیا

برطانیہ میں نسل پرستی مخالف مظاہروں پر چاقوؤں سے حملے

برطانیہ میں‌ نسل پرستانہ مخالف مظاہروں کے دوران چاقوؤں سے حملہ ہوا ہے . ریڈنگ شہر میں نسل پرستوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ اسی شہرمیں چاقوئوں اور چھریوں سے حملے بھی کیے گئے۔

 

ذرائع نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ ریڈنگ کے ایک پارک میں “سنگین حادثے” سے نمٹ رہے ہیں۔

ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور تفتیش شروع کردی ہے۔سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ متعدد افراد کو چاقو کے وار سے زخمی کیا گیا ہے ، جبکہ پولیس نے جائے واردات کو سیل کردیا ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ریڈنگ میں حادثے میں متاثرہ افراد کی حمایت کا اظہار کیا۔جانسن نے ٹویٹر پر کہا کہ میرا دل ریڈنگ کے اس خوفناک حادثے سے متاثرہ تمام لوگوں کے ساتھ ہے اور میں جائے وقوعہ پر ہنگامی خدمات کا شکریہ ادا کرتا ہوں.
واضح رہے کہ امریکا میں سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد یہ مظاہرے نہ صرف امریکہ میں‌پھیل گئے بلکہ برطانیہ میں بھی اس کا زور بڑھ رہا ہے . اس سے پہلے مظاہرین نے چرچل کے مجسمے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے. خیال رہے کہ امریکا کے بعد برطانیہ میں بھی ایسے مجسمے اور یادگاریں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس سے سفید فام نسلی امیتاز کو بڑھاوا ملتا ہے اور غلاموں کی تجارت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
نسلی امتیاز کو فروغ دینے والے مجسمے اتارے جائیں، میئر لندنمظاہرین کی جانب سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے احاطے سے سیسل رہوڈز کا مجسمہ ہٹایا جائے، آکسفورڈ یونیورسٹی سے مجسمہ ہٹانے کیلئے آن لائن پٹیشن پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button