ادب

اعجاز کنور راجہ

غزل

کرو قبول اگر زندگی کا حصہ ہیں
مسافرو یہ سفر زندگی کا حصہ ہیں

ہمارے پیش – نظر دوسرا کنارہ ہے
یہ کشتیاں یہ بھنور زندگی کا حصہ ہیں

ہمیں نمو سے غرض ہے اسی کی فکر کریں
وہ برگ ہوں کہ ثمر زندگی کا حصہ ہیں

سب اپنی اپنی حقیقت میں خوبصورت ہیں
وہ پھول ہوں کہ شرر زندگی کا حصہ ہیں

یہ چاندنی یہ اماوس کی شب، طلوع سحر
نجوم و شمس و قمر زندگی کا حصہ ہیں

شکست و فتح مبیں کچه نہیں اے کار جنوں
تمام زیر و زبر زندگی کا حصہ ہیں

سراب پیاس بجھاتے نہیں ہیں پیاسوں کی
یہ جانتا ہوں مگر زندگی کا حصہ ہیں

ہم اپنی نیند میں خواب اس نگر کے دیکھتے ہیں
جہاں کے شام و سحر زندگی کا حصہ ہیں

وصال اپنی حقیقت میں پر جمال سہی
جدائیاں بھی کنور زندگی کا حصہ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button